امیٹھی،13؍ جون (ایس او نیوز) گلزار احمد نامی امیٹھی کے ایک مسلم تاجر نے یو پی پولیس پر الزام لگایا ہے کہ اسے جھوٹے مقدمہ میں پھنسانے کی نیت سے خود پولیس کانسٹیبل نے اس کی ہارڈ ویئر کی دکان میں طمنچہ رکھا تھا، لیکن جب اس نے پولیس اہلکار کو بتایا کہ اس کی حرکت سی سی ٹی وی کیمرے میں قید ہوئی ہے تو وہ لوگ وہاں سے رفوچکر ہوگئے۔
سوشیل میڈیا میں ایک ویڈیو کلپ وائرل ہوئی ہے جس میں ایک پولیس کانسٹیبل کو کوئی چیز گلزار احمد کی دکان میں رکھتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جبکہ دوسرے پولیس والے بھی دکان کے اندر موجود ہیں۔ دکان دار کے مطابق یہ ایک طمنچہ تھا اور پولیس والے اُسے غیر قانونی ہتھیار رکھنے کے جرم میں گرفتار کرنا چاہتے تھے۔ اس دوران اس نے بتایا کہ دکان میں سی سی کیمرے لگے ہوئے ہیں اور ان کی حرکات ریکارڈ ہوگئی ہیں ، تو پولیس والے اسے چھوڑ کر نکل گئے ۔ ساتھ ہی ساتھ انہوں نے گلزار احمد سے اصرار کیا کہ ویڈیو فوٹیج کو ریکارڈر سے صاف کردیا جائے۔
گلزار احمد کا کہنا ہے کہ اس نے پولیس والوں سے کہا کہ اگر اُسے یہ بتایا جائے گا کہ یہ حرکت کس کے کہنے پر کی گئی ہے تو وہ فوٹیج ڈیلیٹ کرے گا۔ مگر پولیس نے اس سلسلے میں کوئی واضح بات نہیں بتائی تو اس نے یہ فوٹیج عام کردی۔ فوٹیج دیکھنے سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ 16 مارچ کو رات 8 بجے کے قریب پیش آیا تھا۔